چار سو دھند ہے سورج سا دیا چاہتا ہوں
چار سو دھند ہے سورج سا دیا چاہتا ہوں
تجھ سے یک طرفہ محبت کا صلہ چاہتا ہوں
تو عنایت کو محبت کے ترازو پہ نہ رکھ
لمس کو وجد میں لا سامنے آ چاہتا ہوں
خواب تعبیر کے سینے سے لپٹ جاتا ہے
کوئی اس طور سے کہتا ہے کہ کیا چاہتا ہوں
تیرے دکھتے ہی تصوف کی کرن پھوٹتی ہے
تجھ سے ملتا ہوں تو لگتا ہے خدا چاہتا ہوں
مانا پتھر ہوں تری ایڑی کو دل سونپا ہے
چشمہ پھوٹے گا تو میں رنگ حنا چاہتا ہوں
بس اسی شوق میں گزرے گی جوانی کاشفؔ
کبھی پوچھے گی حسینہ کہ میں کیا چاہتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.