ربط نیاز و ناز عجب کام آ گیا
ربط نیاز و ناز عجب کام آ گیا
وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا
جلوہ تو طور پر وہ بہت کم دکھا گیا
البتہ غش کسی کو زیادا ہی آ گیا
جنت سے اک خطا پہ نکالا گیا جسے
کر کے وہی خطا تری دنیا بسا گیا
کہتا ہمیں برا تو نہ لڑتے رقیب سے
تم کو برا کہا تو نہ ہم سے رہا گیا
منصور میں جو حق تھا ہوا تھا وہی عیاں
اندھا زمانہ دار پہ حق کو چڑھا گیا
شک ہے کہ چاہتا ہوں کسی اور کو بھی میں
الزام اک نیا وہ مرے سر لگا گیا
گر اس کے دل میں چور نہیں تھا تو کس لئے
محفل میں ہم کو دیکھ کے نظریں چرا گیا
مسجد میں ایک بات تو رندوں میں ایک بات
واعظ گیا جہاں بھی نیا گل کھلا گیا
مجمع میں سارے میرے محلے کے لوگ تھے
وہ کوئی اور تھا جو مرا گھر جلا گیا
آتا نہیں دعا میں اثر اس خیال سے
طعنہ نہ دے فلک کہ وہ پستی میں آ گیا
بندوں سے قرض مانگا جب اللہ نے عدیلؔ
اتنا دیا کسی نے کہ گھر ہی لٹا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.