غیر ممکن کو بھی امکان میں رکھ سکتے ہیں
غیر ممکن کو بھی امکان میں رکھ سکتے ہیں
ان کی دتکار کو ہم شان میں رکھ سکتے ہیں
پھول ہی پھول ہیں چاروں طرف اس کمرے میں
کیکٹس بھی کسی گلدان میں رکھ سکتے ہیں
بات جو آپ سے دل میں نہیں رکھی جاتی
ہم سے کہہ دیجیے ہم کان میں رکھ سکتے ہیں
آپ کو پا نہیں سکتے ہمیں معلوم ہے سو
آپ کو دل میں نہیں دھیان میں رکھ سکتے ہیں
فکر معیار کی اتنی ہے کہ خارج کرے آسؔ
ایسے اشعار جو دیوان میں رکھ سکتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.