دوست احباب مختصر رکھیے
دوست احباب مختصر رکھیے
معتبر رکھیے کارگر رکھیے
دل کا آئینہ ٹوٹ سکتا ہے
لب و لہجہ سنبھال کر رکھیے
اب کے تقسیم ہجر یوں ہوگی
شام لے جائیے سحر رکھیے
شاعری عشق چائے یا سگریٹ
کم سے کم ایک درد سر رکھیے
دونوں آنکھوں سے دیکھیے دنیا
تیسری آستین پر رکھیے
جو منافق مزاج ہیں ان کو
اپنے جوتے کی نوک پر رکھیے
خامیاں ڈھونڈیے سحرؔ کی مگر
خوبیوں پر بھی کچھ نظر رکھیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.