بے وجہ لوگ آئے ہیں پانی تو ہے نہیں
بے وجہ لوگ آئے ہیں پانی تو ہے نہیں
ویسے بھی ان کو آگ بجھانی تو ہے نہیں
جس دن ابال آ گیا پھر خیریت کہاں
یہ خون ہے ہمارا یہ پانی تو ہے نہیں
بے کار آپ بیٹھے ہیں گھیرے ہوئے مجھے
اب میرے پاس کوئی کہانی تو ہے نہیں
کیا گفتگو کروں میں یہاں اہل علم سے
لہجے میں میرے اتنی روانی تو ہے نہیں
سمجھے نہ جو اشارے کو تھوڑا بہت مرے
کہنے کو اب وہ اتنی دوانی تو ہے نہیں
البم سے اپنے دل کی ہٹاتے ہو کس لئے
تصویر میری اتنی پرانی تو ہے نہیں
تیرے بغیر سیر کو جاؤں میں کس لئے
تیرے بغیر شام سہانی تو ہے نہیں
اک بے وفا سے کر کے محبت فضول میں
در در کی مجھ کو خاک اڑانی تو ہے نہیں
نشہ ہمارے سر پہ تھا جس کا چڑھا ہوا
اے یار ہم میں اب وہ جوانی تو ہے نہیں
بچے جسے سنبھال کے نجمیؔ نہ رکھ سکے
دستار میری اتنی پرانی تو ہے نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.