Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے وجہ لوگ آئے ہیں پانی تو ہے نہیں

نعیم نجمی

بے وجہ لوگ آئے ہیں پانی تو ہے نہیں

نعیم نجمی

MORE BYنعیم نجمی

    بے وجہ لوگ آئے ہیں پانی تو ہے نہیں

    ویسے بھی ان کو آگ بجھانی تو ہے نہیں

    جس دن ابال آ گیا پھر خیریت کہاں

    یہ خون ہے ہمارا یہ پانی تو ہے نہیں

    بے کار آپ بیٹھے ہیں گھیرے ہوئے مجھے

    اب میرے پاس کوئی کہانی تو ہے نہیں

    کیا گفتگو کروں میں یہاں اہل علم سے

    لہجے میں میرے اتنی روانی تو ہے نہیں

    سمجھے نہ جو اشارے کو تھوڑا بہت مرے

    کہنے کو اب وہ اتنی دوانی تو ہے نہیں

    البم سے اپنے دل کی ہٹاتے ہو کس لئے

    تصویر میری اتنی پرانی تو ہے نہیں

    تیرے بغیر سیر کو جاؤں میں کس لئے

    تیرے بغیر شام سہانی تو ہے نہیں

    اک بے وفا سے کر کے محبت فضول میں

    در در کی مجھ کو خاک اڑانی تو ہے نہیں

    نشہ ہمارے سر پہ تھا جس کا چڑھا ہوا

    اے یار ہم میں اب وہ جوانی تو ہے نہیں

    بچے جسے سنبھال کے نجمیؔ نہ رکھ سکے

    دستار میری اتنی پرانی تو ہے نہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے