Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عجب عشق کے یہ فسانے لگے ہیں

ابراہیم آتش

عجب عشق کے یہ فسانے لگے ہیں

ابراہیم آتش

MORE BYابراہیم آتش

    عجب عشق کے یہ فسانے لگے ہیں

    سمجھتے سمجھتے زمانے لگے ہیں

    جو کرتے ہیں توصیف بے جا کسی کی

    وہ انصاف کا خوں بہانے لگے ہیں

    بیاں کر گئے جو نئی بات کہہ کر

    وہ قصے بہت ہی پرانے لگے ہیں

    کسی غیر کا تذکرہ یہ نہیں ہے

    ہمیں آج اپنے ستانے لگے ہیں

    سنائے گئے ہیں جو دانشوروں کو

    تعصب سے پر وہ فسانے لگے ہیں

    نہیں وہ بھی محفوظ اس کے ستم سے

    جو بارود رہ میں بچھانے لگے ہیں

    نہ ظاہر ہو چہرے سے غم اس لیے ہم

    انہیں اپنے دل میں دبانے لگے ہیں

    جہاں روز طوفان اٹھتا ہے آتشؔ

    وہیں ریت کا گھر بنانے لگے ہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے