عجب عشق کے یہ فسانے لگے ہیں
عجب عشق کے یہ فسانے لگے ہیں
سمجھتے سمجھتے زمانے لگے ہیں
جو کرتے ہیں توصیف بے جا کسی کی
وہ انصاف کا خوں بہانے لگے ہیں
بیاں کر گئے جو نئی بات کہہ کر
وہ قصے بہت ہی پرانے لگے ہیں
کسی غیر کا تذکرہ یہ نہیں ہے
ہمیں آج اپنے ستانے لگے ہیں
سنائے گئے ہیں جو دانشوروں کو
تعصب سے پر وہ فسانے لگے ہیں
نہیں وہ بھی محفوظ اس کے ستم سے
جو بارود رہ میں بچھانے لگے ہیں
نہ ظاہر ہو چہرے سے غم اس لیے ہم
انہیں اپنے دل میں دبانے لگے ہیں
جہاں روز طوفان اٹھتا ہے آتشؔ
وہیں ریت کا گھر بنانے لگے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.