Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

احمد ندیم قاسمی

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

    شام کے بعد بھی سورج نہ بجھایا جائے

    گل ہیں کمیاب اگر خون تو ارزاں ہوگا

    کسی عنواں تو کوئی رنگ جمایا جائے

    آج کے دور میں انصاف کے معنی یہ ہیں

    روح مر جائے مگر جسم بچایا جائے

    کون شاہوں کو گداؤں سے الگ پہچانے

    اب تو خلعت میں بھی پیوند لگایا جائے

    آج انا الحق سے بڑی کوئی حقیقت ہی نہیں

    مومنو دار پہ کس کس کو چڑھایا جائے

    نئے انساں سے تعارف جو ہوا تو بولا

    میں ہوں سقراط مجھے زہر پلایا جائے

    موت سے کس کو مفر ہے مگر انسانوں کو

    پہلے جینے کا سلیقہ تو سکھایا جائے

    یوں بھی ہو سکتی ہے آویزش خیر و شر ختم

    پھر سے شیطاں کو عزازیل بنایا جائے

    کوئی بھی تیرے سوا مونس تنہائی نہ تھا

    اک خدا تھا مگر اس کو بھی چھپایا جائے

    میں محبت کا پجاری ہوں عقیدوں کا نہیں

    ان بتوں کو مرے رستے سے ہٹایا جائے

    مجھ کو دعویٰ تو ہے کانٹوں کو بھی روند آنے کا

    اور پھولوں سے بھی دامن نہ چھڑایا جائے

    کس نے مانگی تھی مرے ترک تجسس کی دعا

    میرے دشمن کو مرے سامنے لایا جائے

    میں قیامت کا تو منکر نہیں لیکن واعظ

    مجھ سے انساں کو تماشا نہ بنایا جائے

    حکم ہے سچ بھی قرینے سے کہا جائے ندیمؔ

    زخم کو زخم نہیں پھول بتایا جائے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے