زخم کھاتے رہے غم اٹھاتے رہے
زخم کھاتے رہے غم اٹھاتے رہے
پھر بھی ہنستے رہے گیت گاتے رہے
پھول خوشبو ہوا چاند تارے دھنک
میری تنہائی پر مسکراتے رہے
دوستی پیار چاہت محبت وفا
ہم سرابوں کی بستی بساتے رہے
ابر چھایا رہا رات بھیگی رہی
تم مرے ذہن و دل میں سماتے رہے
تیرا آنا تو اک خواب ہی تھا مگر
ہم چراغ تمنا جلاتے رہے
میں شبستان غم میں تھا تنہا کھڑا
تم بہت دیر تک یاد آتے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.