وہی کمرے ہمیں اچھے لگے ہیں
وہی کمرے ہمیں اچھے لگے ہیں
جہاں پر آج بھی پردے لگے ہیں
تمہارے بن بہت بے رنگ ہے گھر
در و دیوار پر جالے لگے ہیں
کوئی تو بات دل کو لگ گئی ہے
یوں ہی تھوڑی وہ چپ رہنے لگے ہیں
اسی کمرے میں ہی ہوگا خزانہ
میاں اس میں بہت تالے لگے ہیں
قیامت آ گئی نزدیک شاید
محبت ہم سے سب کرنے لگے ہیں
شجر کو کاٹنا واجب نہیں ہے
شجر پر اب بھی کچھ پتے لگے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.