شام آتے ہی غم نکلتا ہے
شام آتے ہی غم نکلتا ہے
ساتھ سورج کے دل بھی ڈھلتا ہے
موت آتی ہے خوش نصیبوں کو
میرے جیسوں کو غم نگلتا ہے
چھوٹے بچوں سا ہے مرا دل بھی
کچھ نہیں کہتا بس مچلتا ہے
کیسے بیتے گی زندگی تم بن
سوچنے پر ہی دم نکلتا ہے
ہار جاتی ہیں دھڑکنیں اکثر
عشق سانسوں سے تیز چلتا ہے
مسکراتا ہے جب کوئی اپنا
میرے سینے کا زخم جلتا ہے
تجھ کو غیروں کے ساتھ دیکھوں تو
زخم بھرنے کے بعد جلتا ہے
مٹ ہی جائے گا غم بھی سینے کا
عمر بھر کون ساتھ چلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.