پرچھائیوں کے بن میں کہیں آ گیا ہوں میں
پرچھائیوں کے بن میں کہیں آ گیا ہوں میں
دور ستم کا ایک نیا تجربہ ہوں میں
چہروں کی ایک بھیڑ صداؤں کا اک جلوس
تیری گلی میں آ کے تماشا بنا ہوں میں
اک عمر سے یہ کس کا مجھے انتظار ہے
جلتی ہوئی سیاہ سڑک پر کھڑا ہوں میں
کتنی کڑی مسافتیں ہیں میرے ہم رکاب
روز ازل سے اپنے لیے حادثہ ہوں میں
وہ صبح میرا ہاتھ جھٹک کر چلی گئی
راتوں کا زہر پھانک کے پچھتا رہا ہوں میں
آبادیاں بھی مجھ کو رفاقت نہ دے سکیں
تنہائی کی صلیب پہ لٹکا رہا ہوں میں
مقتل میں بٹ گیا ہے مرا ریزہ ریزہ جسم
بہتے ہوئے لہو کو نظر آ رہا ہوں میں
فارغؔ دکھے دلوں کے نہ میں کام آ سکا
شرمندگی سے انگلیاں چٹخا رہا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.