Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پرچھائیوں کے بن میں کہیں آ گیا ہوں میں

فارغ بخاری

پرچھائیوں کے بن میں کہیں آ گیا ہوں میں

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    پرچھائیوں کے بن میں کہیں آ گیا ہوں میں

    دور ستم کا ایک نیا تجربہ ہوں میں

    چہروں کی ایک بھیڑ صداؤں کا اک جلوس

    تیری گلی میں آ کے تماشا بنا ہوں میں

    اک عمر سے یہ کس کا مجھے انتظار ہے

    جلتی ہوئی سیاہ سڑک پر کھڑا ہوں میں

    کتنی کڑی مسافتیں ہیں میرے ہم رکاب

    روز ازل سے اپنے لیے حادثہ ہوں میں

    وہ صبح میرا ہاتھ جھٹک کر چلی گئی

    راتوں کا زہر پھانک کے پچھتا رہا ہوں میں

    آبادیاں بھی مجھ کو رفاقت نہ دے سکیں

    تنہائی کی صلیب پہ لٹکا رہا ہوں میں

    مقتل میں بٹ گیا ہے مرا ریزہ ریزہ جسم

    بہتے ہوئے لہو کو نظر آ رہا ہوں میں

    فارغؔ دکھے دلوں کے نہ میں کام آ سکا

    شرمندگی سے انگلیاں چٹخا رہا ہوں میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے