کیا ہوا کیا بتاتا رہا عمر بھر
کیا ہوا کیا بتاتا رہا عمر بھر
غم ہنسی میں اڑاتا رہا عمر بھر
حال اپنا کسی کو جتاتا نہیں
اشک اپنے چھپاتا رہا عمر بھر
ساتھ چلتے رہے پر ملے ہم نہیں
جسم و جاں میں جلاتا رہا عمر بھر
درمیاں بڑھ گئے اور بھی فاصلے
وقت گزرا ستاتا رہا عمر بھر
ریت پر میں چلا بیہڑوں میں رہا
غم کی گٹھری اٹھاتا رہا عمر بھر
آندھیاں گر تھمیں تو بتا دوں تجھے
رسم الفت نبھاتا رہا عمر بھر
رنج فرقت امرؔ جھیلتا ہی رہا
گھر دھوئیں کا بناتا رہا عمر بھر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.