Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہو جاتی ہیں یہ آنکھیں بھی پتھر نہیں دیکھا

احمد علوی

ہو جاتی ہیں یہ آنکھیں بھی پتھر نہیں دیکھا

احمد علوی

MORE BYاحمد علوی

    ہو جاتی ہیں یہ آنکھیں بھی پتھر نہیں دیکھا

    تو نے کبھی اپنوں سے بچھڑ کر نہیں دیکھا

    رکنے کے لئے میں نے بھی آواز نہیں دی

    جاتے ہوئے اس نے بھی پلٹ کر نہیں دیکھا

    ہاتھوں کی لکیروں میں ترا نام لکھا تھا

    میری طرح تو نے بھی تو پڑھ کر نہیں دیکھا

    دیکھے سبھی نے خط کو بھگوتے ہوئے آنسو

    تتلی کا وہ سوکھا ہوا اک پر نہیں دیکھا

    جب اس نے بچھڑتے ہوئے بولا خدا حافظ

    علویؔ تری آنکھوں نے وہ منظر نہیں دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے