ہو جاتی ہیں یہ آنکھیں بھی پتھر نہیں دیکھا
ہو جاتی ہیں یہ آنکھیں بھی پتھر نہیں دیکھا
تو نے کبھی اپنوں سے بچھڑ کر نہیں دیکھا
رکنے کے لئے میں نے بھی آواز نہیں دی
جاتے ہوئے اس نے بھی پلٹ کر نہیں دیکھا
ہاتھوں کی لکیروں میں ترا نام لکھا تھا
میری طرح تو نے بھی تو پڑھ کر نہیں دیکھا
دیکھے سبھی نے خط کو بھگوتے ہوئے آنسو
تتلی کا وہ سوکھا ہوا اک پر نہیں دیکھا
جب اس نے بچھڑتے ہوئے بولا خدا حافظ
علویؔ تری آنکھوں نے وہ منظر نہیں دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.