چاند نے چھینا ہے چراغ مرا
چاند نے چھینا ہے چراغ مرا
پھر سے ویراں ہوا ہے باغ مرا
میرے سینے میں رہ گیا تھا کبھی
آج ظاہر ہوا ہے داغ مرا
دل میں خنجر اتار دوں گا کبھی
میرے بس میں نہیں دماغ مرا
نیند بھی ہو گئی فرار مری
خواہشیں کھا گئیں فراغ مرا
رات سے حجرے میں نہیں ہے ضیا
لے گیا کوئی وہ چراغ مرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.