اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے
اے خدا جو بھی مجھے پند شکیبائی دے
اس کی آنکھوں کو مرے زخم کی گہرائی دے
تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو
ان کو آنکھیں نہیں دیتا ہے تو بینائی دے
جس کے ایما پہ کیا ترک تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے
یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے
اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا
چشم گریاں نہ سہی چشم تماشائی دے
جن کو پیراہن توقیر و شرف بخشا ہے
وہ برہنہ ہیں انہیں خلعت رسوائی دے
کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فرازؔ
وہ تو قاتل کو بھی الزام مسیحائی دے
- مطبع : انار کلی کتاب گھر، لاہور (1973)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.