اب کی گاؤں کا موسم بدلا بدلا تھا
اب کی گاؤں کا موسم بدلا بدلا تھا
شور بہت تھا پھر بھی اک سناٹا تھا
میں سچ کہنے پر بھی کتنا جھوٹا تھا
جھوٹا تھا وہ پھر بھی سب سے اچھا تھا
میں نے زباں رکھ تو دی اس کے ہونٹوں پر
لیکن دریا مجھ سے زیادہ پیاسا تھا
میرے گرد حصار تھا اس کی یادوں کا
اپنے گرد سنا ہے وہ خود بکھرا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.