آنکھ کے سوکھے ہوئے دریا کو پانی چاہیے
آنکھ کے سوکھے ہوئے دریا کو پانی چاہیے
یعنی اس کو ہر نفس آہ و فغانی چاہیے
بات کیجے کچھ تو کہیے چھو ہی لیجے پیار سے
آپ کے ہونے کی دل کو بس نشانی چاہیے
خواہشوں کا اک سمندر اپنی طغیانی پہ ہے
روکنے کو اب مدد بھی آسمانی چاہیے
ہائے اس پہلو سے لگ کر صبح دم اٹھا کروں
زندگی مجھ کو فقط اتنی سہانی چاہیے
چاہتا ہوں دل یہ ٹوٹے بارہا ٹوٹے مگر
میرے دل کو اک محبت جاودانی چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.