پھر موجزن ہوے ہیں سمندر سراب میں
پھر موجزن ہوے ہیں سمندر سراب میں
اب سائے کو تلاش کرو آفتاب میں
آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تمام
اس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں
میں نے کیے تھے دشت طلب سے کئی سوال
اپنی صدا ہی لوٹ کے آئی جواب میں
باقی ورق کتاب کے سادہ ہیں سب کے سب
سب کچھ لکھا ہوا ہے تمنا کے باب میں
دریائے دل سے مجھ کو تعلق ہے اس قدر
تنکا ہوں اور تیر رہا ہوں شراب میں
بیتے دنوں کی یاد مرے آنسوؤں میں ہے
یعنی چمک رہے ہیں ستارے سحاب میں
میں ریزہ ریزہ ہو کے ابھی کیوں بکھر نہ جاؤں
ممکن ہے پھر ہوا نہ رہے پیچ و تاب میں
جنت سے کیوں زمیں پہ گرایا گیا تھا میں
اب میرے ساتھ ہے یہ زمیں بھی عذاب میں
وہ کون تھا ملا تھا کہاں یاد کچھ نہیں
تصویر اس کی دیکھ رہا ہوں گلاب میں
سب دم بخود ہیں کون مگر فیصلہ کرے
نغمہ ہے انگلیوں میں کہ تار رباب میں
شہزادؔ بستیاں تو ہوئیں کب سے بے صدا
کچھ حرف ہیں کہ بول رہے ہیں کتاب میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.