Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھر موجزن ہوے ہیں سمندر سراب میں

شہزاد احمد

پھر موجزن ہوے ہیں سمندر سراب میں

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    پھر موجزن ہوے ہیں سمندر سراب میں

    اب سائے کو تلاش کرو آفتاب میں

    آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تمام

    اس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں

    میں نے کیے تھے دشت طلب سے کئی سوال

    اپنی صدا ہی لوٹ کے آئی جواب میں

    باقی ورق کتاب کے سادہ ہیں سب کے سب

    سب کچھ لکھا ہوا ہے تمنا کے باب میں

    دریائے دل سے مجھ کو تعلق ہے اس قدر

    تنکا ہوں اور تیر رہا ہوں شراب میں

    بیتے دنوں کی یاد مرے آنسوؤں میں ہے

    یعنی چمک رہے ہیں ستارے سحاب میں

    میں ریزہ ریزہ ہو کے ابھی کیوں بکھر نہ جاؤں

    ممکن ہے پھر ہوا نہ رہے پیچ و تاب میں

    جنت سے کیوں زمیں پہ گرایا گیا تھا میں

    اب میرے ساتھ ہے یہ زمیں بھی عذاب میں

    وہ کون تھا ملا تھا کہاں یاد کچھ نہیں

    تصویر اس کی دیکھ رہا ہوں گلاب میں

    سب دم بخود ہیں کون مگر فیصلہ کرے

    نغمہ ہے انگلیوں میں کہ تار رباب میں

    شہزادؔ بستیاں تو ہوئیں کب سے بے صدا

    کچھ حرف ہیں کہ بول رہے ہیں کتاب میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے