ناآشنائے درد کو رمز آشنا کروں
ناآشنائے درد کو رمز آشنا کروں
وہ بے وفا اگر ہے تو میں کیوں جفا کروں
ق
سمجھے نہ میری بات تو میں کشتۂ کلام
اپنے کہے پہ آپ ہی نادم ہوا کروں
خوشبو نہ ہو تو پھول کی رنگت بھی ہے غبار
دل ہی نہ ہو تو میں رخ زیبا کو کیا کروں
ریگ رواں پہ نقش بنانے سے فائدہ
خون جگر سے حرف تمنا لکھا کروں
دل کا لہو بھی چہرۂ گل پر بکھیر دوں
محبوبۂ بہار کا حق تو ادا کروں
تو دور ہو تو میں رگ جاں میں سمیٹ لوں
تو پاس ہو تو تیری تمنا سوا کروں
کیفیت دوام میں گزرے تمام عمر
آنکھیں تو بند ہوں تری باتیں سنا کروں
سورج کو بڑھ کے شیشۂ مے میں اتار لوں
لو شام ہو گئی در مے خانہ وا کروں
ہے ذات و کائنات کا رشتہ یہی جمیلؔ
بجھ جاؤں دن کے ساتھ تو ہر شب جلا کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.