جھانکا مری پلکوں سے تو پتھرا کے گرا ہے
جھانکا مری پلکوں سے تو پتھرا کے گرا ہے
خوں بن کے جو صدیوں مری رگ رگ میں بہا ہے
آواز نے اس کا کبھی گھونگھٹ نہیں کھولا
یوں تو وہ ازل سے مرے ہونٹوں پہ رہا ہے
تو میرا ہے اے میرے تراشے ہوئے پتھر
خود مٹ کے تجھے میں نے نیا روپ دیا ہے
تاریک سمندر کا وہ باسی تھا مگر اب
پلکوں پہ مری آ کے مجھے گھور رہا ہے
تو آ کہ سنور جائے یہ آسیب زدہ دل
اس بند حویلی پہ ترا نام لکھا ہے
بن جاتے ہیں پل بھر میں صداؤں کے بھی پیکر
میں نے یہ کسی بانسری والے سے سنا ہے
یادوں کے ہلورے ہیں تمناؤں کی پینگیں
میلہ سا مرے دل میں سر شام لگا ہے
اے شب تو کسی سانولے سورج کو جنم دے
صدیوں سے سلگتی ہوئی دھرتی کی صدا ہے
الفاظ کے اس آئنہ خانے میں رشیدؔ آج
خود اپنے ہی معیار کی سولی پہ چڑھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.