Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جھانکا مری پلکوں سے تو پتھرا کے گرا ہے

رشید قیصرانی

جھانکا مری پلکوں سے تو پتھرا کے گرا ہے

رشید قیصرانی

MORE BYرشید قیصرانی

    جھانکا مری پلکوں سے تو پتھرا کے گرا ہے

    خوں بن کے جو صدیوں مری رگ رگ میں بہا ہے

    آواز نے اس کا کبھی گھونگھٹ نہیں کھولا

    یوں تو وہ ازل سے مرے ہونٹوں پہ رہا ہے

    تو میرا ہے اے میرے تراشے ہوئے پتھر

    خود مٹ کے تجھے میں نے نیا روپ دیا ہے

    تاریک سمندر کا وہ باسی تھا مگر اب

    پلکوں پہ مری آ کے مجھے گھور رہا ہے

    تو آ کہ سنور جائے یہ آسیب زدہ دل

    اس بند حویلی پہ ترا نام لکھا ہے

    بن جاتے ہیں پل بھر میں صداؤں کے بھی پیکر

    میں نے یہ کسی بانسری والے سے سنا ہے

    یادوں کے ہلورے ہیں تمناؤں کی پینگیں

    میلہ سا مرے دل میں سر شام لگا ہے

    اے شب تو کسی سانولے سورج کو جنم دے

    صدیوں سے سلگتی ہوئی دھرتی کی صدا ہے

    الفاظ کے اس آئنہ خانے میں رشیدؔ آج

    خود اپنے ہی معیار کی سولی پہ چڑھا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے