جان خلوص و روح تمنا کہیں جسے
جان خلوص و روح تمنا کہیں جسے
ہم اس کو ڈھونڈتے ہیں کہ اپنا کہیں جسے
اکثر ملے گی محفل سر گشتگان گل
اس گوشۂ چمن میں کہ صحرا کہیں جسے
منجملۂ ہزار غم عشق و روزگار
وہ غم بھی ہے کہ سعیٔ مداوا کہیں جسے
ان شارحین غم کو بھلا غم سے کیا غرض
اک شغل ہے کہ غم کا تماشا کہیں جسے
اس سوز و کرب و درد و تپش میں نہیں وہ بات
کیا چیز ہو کہ ان کی تمنا کہیں جسے
افسوس حلقہ ہائے خرد میں اسیر ہے
عالیؔ کہ ایک قلب سراپا کہیں جسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.