Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اضطراب دل نا کام سے ڈر جاتے ہیں

مضطر حیدری

اضطراب دل نا کام سے ڈر جاتے ہیں

مضطر حیدری

MORE BYمضطر حیدری

    اضطراب دل نا کام سے ڈر جاتے ہیں

    رات تو دور ہے ہم شام سے ڈر جاتے ہیں

    وہ بھی دن تھے کہ ہمیں ہم تھے بلا نوشوں میں

    اب یہ عالم ہے کہ دو جام سے ڈر جاتے ہیں

    دل میں آتا تو ہے تجدید تمنا کا خیال

    ناگہاں گردش ایام سے ڈر جاتے ہیں

    ہم کو انجام کی تلخی میں مزہ ملتا ہے

    لوگ آغاز میں انجام سے ڈر جاتے ہیں

    یہ ہمیں تھے کہ نڈر ہو کے ترا نام لیا

    آج تو لوگ ترے نام سے ڈر جاتے ہیں

    تہمت عشق تو معراج ہے ہم کو مضطرؔ

    ہوں گے وہ اور جو الزام سے ڈر جاتے ہیں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے