اضطراب دل نا کام سے ڈر جاتے ہیں
اضطراب دل نا کام سے ڈر جاتے ہیں
رات تو دور ہے ہم شام سے ڈر جاتے ہیں
وہ بھی دن تھے کہ ہمیں ہم تھے بلا نوشوں میں
اب یہ عالم ہے کہ دو جام سے ڈر جاتے ہیں
دل میں آتا تو ہے تجدید تمنا کا خیال
ناگہاں گردش ایام سے ڈر جاتے ہیں
ہم کو انجام کی تلخی میں مزہ ملتا ہے
لوگ آغاز میں انجام سے ڈر جاتے ہیں
یہ ہمیں تھے کہ نڈر ہو کے ترا نام لیا
آج تو لوگ ترے نام سے ڈر جاتے ہیں
تہمت عشق تو معراج ہے ہم کو مضطرؔ
ہوں گے وہ اور جو الزام سے ڈر جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.