عدو کی سمت سے ہم پر جو تیر مارا گیا
عدو کی سمت سے ہم پر جو تیر مارا گیا
ہمارے جذبۂ الفت کو پھر ابھارا گیا
ہمارے زخم تمنا کھلے گلوں کی طرح
جو تیرا نام سر بزم یوں پکارا گیا
وہ جس کا ساتھ اکیلا ہمیں نہ چھوڑتا تھا
ہماری زیست کا وہ خوش نما سہارا گیا
غریب شخص کی الفت امر ہوئی آخر
شہ دیار جفا تخت سے اتارا گیا
کسی کو منزل مقصود خود بلاتی رہی
کسی کو راہ کی تاریکیوں میں مارا گیا
ہماری مانگ نہ جانے یہاں پہ کون بھرے
کسی کے سامنے دامن اگر پسارا گیا
کسی کو اپنا بنانے کی آرزو کیوں ہو
کہ ڈوب اپنے مقدر کا جب ستارہ گیا
یہ شاعری تو میاں خون دل سے پھوٹے گی
لہو سے قلب کے جذبوں کو گر سنوارا گیا
رہ حیات سے وابستگی تو ہے اس کی
معاذؔ لوٹ ہی آئے گا گر پکارا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.