Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اسی لیے تو سفر مختصر نہیں ہوتے

عثمان ناظر

اسی لیے تو سفر مختصر نہیں ہوتے

عثمان ناظر

MORE BYعثمان ناظر

    اسی لیے تو سفر مختصر نہیں ہوتے

    ہم ایسے خانہ بدوشوں کے گھر نہیں ہوتے

    تمام عمر وہ چہکار کو ترستے ہیں

    جن عالیشان گھروں میں شجر نہیں ہوتے

    نئی دلیل دو اس بار جیتنے کے لیے

    پرانے حربے سدا کارگر نہیں ہوتے

    ہمیں خیال کہاں آتا زور بازو کا

    ہمارے نالے اگر بے اثر نہیں ہوتے

    میں زیست سے انہیں منہا شمار کرتا ہوں

    تمھارے ساتھ جو لمحے بسر نہیں ہوتے

    جہاں جہاں بھی ضروری ہو ان کا ہونا وہیں

    مرے رفیق مرے چارہ گر نہیں ہوتے

    ہوا کے ہاتھ پہ بیعت کا سوچنے لگے ہیں

    کچھ اس لیے بھی دیے بام پر نہیں ہوتے

    بہت سی نسبتیں ہوتی ہیں شرم کا باعث

    حوالے سارے کبھی معتبر نہیں ہوتے

    کبھی کبھی جنہیں ہم اپنا مان لیتے ہیں

    دکھائی دیتے ہیں اپنے مگر نہیں ہوتے

    جو بچپنے ہی میں جذبوں کو ٹھیس لگ جائے

    تو مرنے لگتے ہیں پھر جان بر نہیں ہوتے

    مقابلے کے لیے صاف خون لازم ہے

    منافقین تو سینہ سپر نہیں ہوتے

    جناب چاہنے والوں سے دور ہوتے نہیں

    جو ہو بھی جائیں اگر اس قدر نہیں ہوتے

    دکھائی دینا کہاں ہوتا ہے عمق نظری

    جو دیکھ سکتے ہیں سب دیدہ ور نہیں ہوتے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے