اسی لیے تو سفر مختصر نہیں ہوتے
اسی لیے تو سفر مختصر نہیں ہوتے
ہم ایسے خانہ بدوشوں کے گھر نہیں ہوتے
تمام عمر وہ چہکار کو ترستے ہیں
جن عالیشان گھروں میں شجر نہیں ہوتے
نئی دلیل دو اس بار جیتنے کے لیے
پرانے حربے سدا کارگر نہیں ہوتے
ہمیں خیال کہاں آتا زور بازو کا
ہمارے نالے اگر بے اثر نہیں ہوتے
میں زیست سے انہیں منہا شمار کرتا ہوں
تمھارے ساتھ جو لمحے بسر نہیں ہوتے
جہاں جہاں بھی ضروری ہو ان کا ہونا وہیں
مرے رفیق مرے چارہ گر نہیں ہوتے
ہوا کے ہاتھ پہ بیعت کا سوچنے لگے ہیں
کچھ اس لیے بھی دیے بام پر نہیں ہوتے
بہت سی نسبتیں ہوتی ہیں شرم کا باعث
حوالے سارے کبھی معتبر نہیں ہوتے
کبھی کبھی جنہیں ہم اپنا مان لیتے ہیں
دکھائی دیتے ہیں اپنے مگر نہیں ہوتے
جو بچپنے ہی میں جذبوں کو ٹھیس لگ جائے
تو مرنے لگتے ہیں پھر جان بر نہیں ہوتے
مقابلے کے لیے صاف خون لازم ہے
منافقین تو سینہ سپر نہیں ہوتے
جناب چاہنے والوں سے دور ہوتے نہیں
جو ہو بھی جائیں اگر اس قدر نہیں ہوتے
دکھائی دینا کہاں ہوتا ہے عمق نظری
جو دیکھ سکتے ہیں سب دیدہ ور نہیں ہوتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.