اچھا نہیں کہیں گے کہ لغزش نہیں ہوئی
اچھا نہیں کہیں گے کہ لغزش نہیں ہوئی
تم بھی تو ایسا مت کہو سازش نہیں ہوئی
واقف ہیں آسمان کی وسعت سے اس لیے
ہم کو کبھی بھی چاند کی خواہش نہیں ہوئی
جتنی توجہ آپ نے میرے سخن کو دی
ایسی کبھی ہماری ستائش نہیں ہوئی
مرجھا گئے تھے دھوپ کی شدت سے پھول سب
اور لوگ کہہ رہے تھے کہ بارش نہیں ہوئی
ہم جانتے تھے دیکھ کے تو لوٹ آئے گا
زخم اتنا قیمتی تھا نمائش نہیں ہوئی
سب پوچھتے ہیں ظامیؔ محبت میں غم ملا
کہتی ہوں مجھ پہ ایسی نوازش نہیں ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.