اب نہیں ہاتھ جنہیں تھام کے چلنا سیکھیں
اب نہیں ہاتھ جنہیں تھام کے چلنا سیکھیں
ناز کے پالے ہوئے آپ ہی پلنا سیکھیں
ہم نے کچھ گرمیٔ صحرا سے گزارش نہیں کی
اپنے پیروں سے کہا ریت پہ چلنا سیکھیں
اتنی فرصت ہی کہاں دے گی یہ سرگرمیٔ شوق
کس لیے ہم کف افسوس کو ملنا سیکھیں
دیر و کعبہ کے وہ احوال بدلنے والے
جو نہیں کہتے تھے حالات میں ڈھلنا سیکھیں
بے سبب اڑتے بگولوں کے لیے بہتر ہے
شوکت گل سے ذرا پھولنا پھلنا سیکھیں
میرے فن کو بڑا پیچیدہ بتانے والے
روزمرہ کے مسائل سے نکلنا سیکھیں
راستہ اس لیے دشوار چنا ہے مہ نور
میری خواہش ہے مرے لوگ سنبھلنا سیکھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.