Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب نہیں ہاتھ جنہیں تھام کے چلنا سیکھیں

ماہ نور رانا

اب نہیں ہاتھ جنہیں تھام کے چلنا سیکھیں

ماہ نور رانا

MORE BYماہ نور رانا

    اب نہیں ہاتھ جنہیں تھام کے چلنا سیکھیں

    ناز کے پالے ہوئے آپ ہی پلنا سیکھیں

    ہم نے کچھ گرمیٔ صحرا سے گزارش نہیں کی

    اپنے پیروں سے کہا ریت پہ چلنا سیکھیں

    اتنی فرصت ہی کہاں دے گی یہ سرگرمیٔ شوق

    کس لیے ہم کف افسوس کو ملنا سیکھیں

    دیر و کعبہ کے وہ احوال بدلنے والے

    جو نہیں کہتے تھے حالات میں ڈھلنا سیکھیں

    بے سبب اڑتے بگولوں کے لیے بہتر ہے

    شوکت گل سے ذرا پھولنا پھلنا سیکھیں

    میرے فن کو بڑا پیچیدہ بتانے والے

    روزمرہ کے مسائل سے نکلنا سیکھیں

    راستہ اس لیے دشوار چنا ہے مہ نور

    میری خواہش ہے مرے لوگ سنبھلنا سیکھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے