اب اپنے حال دل پہ نہ کیوں آب دیدہ ہوں
اب اپنے حال دل پہ نہ کیوں آب دیدہ ہوں
دنیا بھی مانتی ہے کہ آفت رسیدہ ہوں
حیرت ہی اس میں کیا ہے اگر سر کشیدہ ہوں
آخر غرور زیست کا میں آفریدہ ہوں
دامن دریدہ ہوں نہ گریباں دریدہ ہوں
وحشت تو یہ ہے میں سخن ناشنیدہ ہوں
میری جبیں پہ ثبت ہیں دنیا کی کلفتیں
میں شرح روزگار کا واحد جریدہ ہوں
یہ پوچھنا ہے آج ضرورت کے جبر سے
کس کس کا اور دہر میں منت کشیدہ ہوں
اٹھتی ہے ہوک دل میں کہ پھولوں میں جا بسوں
شاید کسی حسیں کا خیال رمیدہ ہوں
اے آب و رنگ باغ مجھے اجنبی نہ جان
میں سابقہ بہار کی بوئے پریدہ ہوں
اے آبروئے زیست نہ مجھ سے گریز کر
لوح جہاں پہ ظلمت غم کا قصیدہ ہوں
تجھ کو بھی کیا کسی سے عقیدت رہی کبھی
اے شخص میں تو صرف عقیدت گزیدہ ہوں
اوروں کے غم میں کھائی ہیں در در کی ٹھوکریں
اے زیست احترام کہ میں برگزیدہ ہوں
میں بھی فریب دہر سے نوریؔ نہ بچ سکا
حالانکہ سرد و گرم زمانہ چشیدہ ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.