Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب اپنے حال دل پہ نہ کیوں آب دیدہ ہوں

کرار نوری

اب اپنے حال دل پہ نہ کیوں آب دیدہ ہوں

کرار نوری

MORE BYکرار نوری

    اب اپنے حال دل پہ نہ کیوں آب دیدہ ہوں

    دنیا بھی مانتی ہے کہ آفت رسیدہ ہوں

    حیرت ہی اس میں کیا ہے اگر سر کشیدہ ہوں

    آخر غرور زیست کا میں آفریدہ ہوں

    دامن دریدہ ہوں نہ گریباں دریدہ ہوں

    وحشت تو یہ ہے میں سخن ناشنیدہ ہوں

    میری جبیں پہ ثبت ہیں دنیا کی کلفتیں

    میں شرح روزگار کا واحد جریدہ ہوں

    یہ پوچھنا ہے آج ضرورت کے جبر سے

    کس کس کا اور دہر میں منت کشیدہ ہوں

    اٹھتی ہے ہوک دل میں کہ پھولوں میں جا بسوں

    شاید کسی حسیں کا خیال رمیدہ ہوں

    اے آب و رنگ باغ مجھے اجنبی نہ جان

    میں سابقہ بہار کی بوئے پریدہ ہوں

    اے آبروئے زیست نہ مجھ سے گریز کر

    لوح جہاں پہ ظلمت غم کا قصیدہ ہوں

    تجھ کو بھی کیا کسی سے عقیدت رہی کبھی

    اے شخص میں تو صرف عقیدت گزیدہ ہوں

    اوروں کے غم میں کھائی ہیں در در کی ٹھوکریں

    اے زیست احترام کہ میں برگزیدہ ہوں

    میں بھی فریب دہر سے نوریؔ نہ بچ سکا

    حالانکہ سرد و گرم زمانہ چشیدہ ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے