رائیگاں ہو گیا تبسم بھی
رائیگاں ہو گیا تبسم بھی
دل کو تسکیں نہ دے سکے تم بھی
دل کی خاموش آرزو پہ نہ جا
دل میں ہیں سیکڑوں تلاطم بھی
اک تغافل سے اک توجہ تک
عشق آنسو بھی ہے تبسم بھی
رنگ رخ تو ہی اب فسانہ چھیڑ
ساتھ دیتا نہیں تکلم بھی
اللہ اللہ نزاکت غم عشق
بار ہوتا ہے اک تبسم بھی
جانے کیا کیا خیال آتے ہیں
یاد آتے نہیں ہو جب تم بھی
جام و مینا میں پھول کھلنے لگے
اڑ کے پہنچا کہاں تبسم بھی
تم سے امید پرسش غم تھی
مسکرا کر گزر گئے تم بھی
کس کو دیکھا ہے آج اے اقبالؔ
دھندلے دھندلے ہیں ماہ و انجم بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.