دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
وہ جو پھیر کر نظریں پاس سے گزرتے ہیں
اے غم زمانہ ہم تجھ کو یاد کرتے ہیں
وہ دیار جاناں ہو یا جوار مے خانہ
گردشیں ٹھہرتی ہیں ہم جہاں ٹھہرتے ہیں
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا
جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں
موج خوں ہے آنکھوں میں پاؤں میں ہیں زنجیریں
یوں بھی ان کی یادوں کے سلسلے ابھرتے ہیں
ان کی انجمن بھی ہے دار بھی رسن بھی ہے
دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھہرتے ہیں
ان کے اک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دل کتنے
ان کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں
جو پلے ہیں ظلمت میں کیا سحر کو پہچانیں
تیرگی کے شیدائی روشنی سے ڈرتے ہیں
چھاؤں کب میسر ہے زندگی کے صحرا میں
قافلے محبت کے دھوپ میں ٹھہرتے ہیں
لاکھ وہ گریزاں ہوں لاکھ دشمن جاں ہوں
دل کو کیا کریں اقبالؔ ہم انہیں پہ مرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.