Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

اقبال صفی پوری

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

    جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں

    وہ جو پھیر کر نظریں پاس سے گزرتے ہیں

    اے غم زمانہ ہم تجھ کو یاد کرتے ہیں

    وہ دیار جاناں ہو یا جوار مے خانہ

    گردشیں ٹھہرتی ہیں ہم جہاں ٹھہرتے ہیں

    اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا

    جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں

    موج خوں ہے آنکھوں میں پاؤں میں ہیں زنجیریں

    یوں بھی ان کی یادوں کے سلسلے ابھرتے ہیں

    ان کی انجمن بھی ہے دار بھی رسن بھی ہے

    دیکھنا ہے دیوانے اب کہاں ٹھہرتے ہیں

    ان کے اک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دل کتنے

    ان کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں

    جو پلے ہیں ظلمت میں کیا سحر کو پہچانیں

    تیرگی کے شیدائی روشنی سے ڈرتے ہیں

    چھاؤں کب میسر ہے زندگی کے صحرا میں

    قافلے محبت کے دھوپ میں ٹھہرتے ہیں

    لاکھ وہ گریزاں ہوں لاکھ دشمن جاں ہوں

    دل کو کیا کریں اقبالؔ ہم انہیں پہ مرتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے