یہ چیخ چیخ کے ہر پل دہائی دیتی ہیں
یہ چیخ چیخ کے ہر پل دہائی دیتی ہیں
تمہاری سوچیں مجھے کب رہائی دیتی ہیں
وہ سامنے ہو تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
وہ بولتا ہو تو باتیں دکھائی دیتی ہیں
مسافتوں کی صعوبت سے جب بکھر جاؤں
تو ماں کی باتیں ہی مجھ کو اکائی دیتی ہیں
نہ جانے کس کا بسیرا ہے دل کے کمرے میں
میں چپ رہوں بھی تو چیخیں سنائی دیتی ہیں
وہ جب ہو دور تو مصرع بھی غیر ممکن ہے
وہ جب ہو پاس تو غزلیں سجھائی دیتی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.