Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چھپ گئے عیب کہ اوپر ہیں جرابیں ایسی

اقبال کوثر

چھپ گئے عیب کہ اوپر ہیں جرابیں ایسی

اقبال کوثر

MORE BYاقبال کوثر

    چھپ گئے عیب کہ اوپر ہیں جرابیں ایسی

    اوڑھ لیں پاؤں کے چہروں نے نقابیں ایسی

    اسپ رکتا ہے نہ میں خود کو گرا سکتا ہوں

    بن گئیں پاؤں کی زنجیر رکابیں ایسی

    منہ میں جو گھونٹ ہیں یخ دل میں وہی شعلہ ہیں

    برف میں آگ لگائے ہیں شرابیں ایسی

    ایسے چہرے سر مکتب کہ ہے پڑھنا مشکل

    خود مدرس جنہیں پڑھتا ہے کتابیں ایسی

    ہاں تجھے خاک کے رشتوں نے جکڑ رکھا ہے

    ایسا سرکش ہے تو پھر توڑ طنابیں ایسی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے