چھپ گئے عیب کہ اوپر ہیں جرابیں ایسی
چھپ گئے عیب کہ اوپر ہیں جرابیں ایسی
اوڑھ لیں پاؤں کے چہروں نے نقابیں ایسی
اسپ رکتا ہے نہ میں خود کو گرا سکتا ہوں
بن گئیں پاؤں کی زنجیر رکابیں ایسی
منہ میں جو گھونٹ ہیں یخ دل میں وہی شعلہ ہیں
برف میں آگ لگائے ہیں شرابیں ایسی
ایسے چہرے سر مکتب کہ ہے پڑھنا مشکل
خود مدرس جنہیں پڑھتا ہے کتابیں ایسی
ہاں تجھے خاک کے رشتوں نے جکڑ رکھا ہے
ایسا سرکش ہے تو پھر توڑ طنابیں ایسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.