چھتیں گھروں کی اڑی ہیں تو دیکھتے ہو کیا
چھتیں گھروں کی اڑی ہیں تو دیکھتے ہو کیا
ہوائے تند کی تحریر پڑھ رہے ہو کیا
ہوا میں کس کی پکاریں ہیں کس کے نوحے ہیں
سنو گے غور سے سنتے ہو سن رہے ہو کیا
جو کھو گیا مری بکھری ہوئی کتابوں سے
اسی حنائی سے کاغذ پہ تم لکھے ہو کیا
تمام نور کے سانچوں کو ساتھ لے کے مٹے
دیے کے رنگ میں اے میرے دل بجھے ہو کیا
تمہیں تو دیکھ کے شرمندہ ہو گیا ثاقبؔ
دلوں کی مصلحتوں کے تم آئنے ہو کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.