بھاگتی ہی جا رہی ہے بے خبر ہے زندگی
بھاگتی ہی جا رہی ہے بے خبر ہے زندگی
ہیں بہت ارمان لیکن مختصر ہے زندگی
راستے انجان ہیں تنہا سفر ہے زندگی
اس حقیقت سے مگر اب با خبر ہے زندگی
پاس ہے منزل مری اب تک اسی غفلت میں تھا
بس اسی کارن ہوئی یہ در بہ در ہے زندگی
دور تک پھیلا ہوا ہے صرف کالا سا دھواں
آگ سینے میں لیے سوز جگر ہے زندگی
عشق نے بدلی ہے دنیا دل مرے تو بھی بدل
ساتھ اب تو کتنی دلکش رہگزر ہے زندگی
عمر کے اس موڑ پر بھی ڈھونڈھتا ہوں میں اسے
مل نہ پایا جو چراغ رہگزر ہے زندگی
قتل وہ کرتی رہی ہے مسکرا کر ہی امرؔ
کیوں اُسے تو کہہ رہا ہے ہم سفر ہے زندگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.