ترا حال اے دل مبتلا کوئی پاس ہو تو سناؤں میں
ترا حال اے دل مبتلا کوئی پاس ہو تو سناؤں میں
مرے جینے کا جو ہو آسرا اسے کس طرح سے بھلاؤں میں
اے سکون دل اے قرار جاں مری چھیڑ پر نہ ہو بدگماں
یہ دمکتے تارے یہ کہکشاں تو کہے تو نوچ کے لاؤں میں
دم صبح اٹھ کے بصد ادا مرے پاس سے جو چلی ہو تم
مرا عشق مجھ سے مچل گیا کہ سحر کو رات بناؤں میں
رہ عشق کی یہ صعوبتیں یہ قدم قدم پہ اذیتیں
تمہی منصفی سے کہو ذرا کہ یہ بار کیسے اٹھاؤں میں
وہ ملیں گے ہندیؔ سے اب کے گر تو بہ شوق پوچھوں گا ان سے میں
جو لکھی ہے میں نے غزل نئی مجھے حکم ہو تو سناؤں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.