Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ترا حال اے دل مبتلا کوئی پاس ہو تو سناؤں میں

ہندی گورکھپوری

ترا حال اے دل مبتلا کوئی پاس ہو تو سناؤں میں

ہندی گورکھپوری

MORE BYہندی گورکھپوری

    ترا حال اے دل مبتلا کوئی پاس ہو تو سناؤں میں

    مرے جینے کا جو ہو آسرا اسے کس طرح سے بھلاؤں میں

    اے سکون دل اے قرار جاں مری چھیڑ پر نہ ہو بدگماں

    یہ دمکتے تارے یہ کہکشاں تو کہے تو نوچ کے لاؤں میں

    دم صبح اٹھ کے بصد ادا مرے پاس سے جو چلی ہو تم

    مرا عشق مجھ سے مچل گیا کہ سحر کو رات بناؤں میں

    رہ عشق کی یہ صعوبتیں یہ قدم قدم پہ اذیتیں

    تمہی منصفی سے کہو ذرا کہ یہ بار کیسے اٹھاؤں میں

    وہ ملیں گے ہندیؔ سے اب کے گر تو بہ شوق پوچھوں گا ان سے میں

    جو لکھی ہے میں نے غزل نئی مجھے حکم ہو تو سناؤں میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے