شام کو دھوپ سے راحت ہی بھلا کیا ہوگی
شام کو دھوپ سے راحت ہی بھلا کیا ہوگی
سائے کو رات کی حسرت ہی بھلا کیا ہوگی
نیند کی چاہ میں جو آنکھ بھٹکتی ہی رہے
اس کو خوابوں سے بشارت ہی بھلا کیا ہوگی
جن درختوں پہ پرندوں کی سکونت نہ رہے
ان پہ طوفاں کی قیامت ہی بھلا کیا ہوگی
میں ترے واسطے جاں سے بھی گزر سکتی تھی
تو نے سمجھا تھا عنایت ہی بھلا کیا ہوگی
ربط قائم ہو جو اظہار کی بے باکی پر
ایسے بندھن میں نزاکت ہی بھلا کیا ہوگی
جن چراغوں میں نہ ہو لوح محبت باقی
ان چراغوں میں حرارت ہی بھلا کیا ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.