مرے حضور یہاں جو امیر ہوتے ہیں
مرے حضور یہاں جو امیر ہوتے ہیں
وہ صرف آپ کے در کے فقیر ہوتے ہیں
وہ شور و شر میں سکونت پذیر ہوتے ہیں
جو لوگ دنیا کے دل سے اسیر ہوتے ہیں
جو لوگ چھوڑ کے جانے میں جلدی کرتے ہیں
میں جانتا ہوں وہی بے ضمیر ہوتے ہیں
کسی سے کوئی بھی شکوہ نہیں ہے ہم کو ذرا
ہمارے جیسوں کے غم بھی کثیر ہوتے ہیں
تبھی تو تحفے میں اس کو دیا ہے آج بکے
کہ پھول عشق کے پہلے سفیر ہوتے ہیں
مرا تو شہر فرشتوں کا شہر ہے اخترؔ
یہاں پہ لوگ بھی منکر نکیر ہوتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.