بے دلی بے بسی بے کلی رات دن
بے دلی بے بسی بے کلی رات دن
جستجو بس سکوں کی رہی رات دن
کہہ نہ پایا کبھی لب سے میں حال دل
پر صدا دیتی تھی خامشی رات دن
چھوڑ ناراضگی کو تو آ میرے پاس
اب ستاتی ہے تیری کمی رات دن
نامکمل رہے تیرے قول و قرار
''کشمکش میں رہی زندگی رات دن''
یوں دکھائی ہے صحرا نے موج سراب
رہتی ہے لب پہ اب تشنگی رات دن
بیٹے بھی ماؤں سے دور ہونے لگے
جب ڈرانے لگی مفلسی رات دن
پی لیا جام میثاقؔ جب آنکھوں کا
اور بڑھتی گئی بے خودی رات دن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.