صلیب شب سے کوئی صبح جب اتارے مجھے
صلیب شب سے کوئی صبح جب اتارے مجھے
یہ احتمال نہیں ہے کہ تو پکارے مجھے
عجیب کرب کی خیرات بانٹ جاتے ہیں
اداس پھول تجھے ڈوبتے ستارے مجھے
میں خاک تھا تو ترے ساتھ اڑ بھی لیتا تھا
جو اب ہوا ہوں کوئی کس طرح بہائے مجھے
مجھے بتا اسے دشمن کہوں کہ دوست کہوں
جو میرا غم بھی کرے نذر بھی گزارے مجھے
کبھی تو تو بھی مرے خون کی شہادت دے
کہ تیرے نام پہ کس کس نے تیر مارے مجھے
شب فراق جو آئے تو دل یہ چاہتا ہے
کوئی ستارہ ہی کرتا رہے اشارے مجھے
گجر کے ساتھ نگار وطن پکارتی ہے
کوئی بنائے مجھے اور کوئی سنوارے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.