لمحات میں برسوں سے مہینوں سے لڑیں گے
لمحات میں برسوں سے مہینوں سے لڑیں گے
ہم جب بھی لڑیں یار قرینوں سے لڑیں گے
تاریخ کے ماتھے پہ ہے لکھا ہوا دیکھو
بیمار بدن شہ کے خزینوں سے لڑیں گے
سرمائے سے بارود خریدے گا مقابل
مزدور تو محنت کے پسینوں سے لڑیں گے
مت موڑ مشینوں سے مرے شہر کا پانی
جذبات جو بپھرے تو مشینوں سے لڑیں گے
یہ جبر کا یہ جہل کا یہ زر کا تسلط
تم دیکھنا اک وقت میں تینوں سے لڑیں گے
عشروں کے تدبر نے یہی حکم سنایا
اب خاک نشیں تخت نشینوں سے لڑیں گے
ہم لوگ نئے شعر کی تخلیق کی خاطر
فردوس میں بھی زہرہ جبینوں سے لڑیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.