پھولوں کی آرزو میں بڑے زخم کھائے ہیں
پھولوں کی آرزو میں بڑے زخم کھائے ہیں
لیکن چمن کے خار بھی اب تک پرائے ہیں
اس پر حرام ہیں غم دوراں کی تلخیاں
جس کے نصیب میں تری زلفوں کے سائے ہیں
روشن کئے ہیں دل میں تمناؤں کے چراغ
ویران بستیوں میں مسافر بسائے ہیں
محشر میں لے گئی تھی طبیعت کی سادگی
لیکن بڑے خلوص سے ہم لوٹ آئے ہیں
آیا ہوں یاد بعد فنا ان کو اے عدمؔ
کیا جلد میرے صدق پہ ایمان لائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.