وقت کے ساتھ سبھی کو ہے فسانہ ہونا
وقت کے ساتھ سبھی کو ہے فسانہ ہونا
اب نئے ہیں تو ہمیں بھی ہے پرانا ہونا
لے کے نکلے ہیں سبھی لوگ گھروں سے نیزے
جانے کس کس کو ہے کس کس کا نشانہ ہونا
جتنے پھیلے ہوئے دامن تھے وہ پھیلے ہی رہے
چھوڑ کر سب کو کسی کا وہ روانہ ہونا
بحر ہو کر بھی مقید ہوں میں اک قطرے میں
جس طرح پیڑ کا آغاز میں دانہ ہونا
چھوڑ دے گا وہ کسی روز اسے بھی خاورؔ
اس لبادے کو بھی اک دن ہے پرانا ہونا
سانپ ہی سانپ نظر آتے ہیں ہر سو خاورؔ
مجھ کو تو مار گیا میرا خزانہ ہونا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.