میاں ضرور کمی ہے کوئی ستاروں میں
میاں ضرور کمی ہے کوئی ستاروں میں
ہماری ہاں نہیں آتی ہے استخاروں میں
وہاں پر اب ہمیں نفرت سے دیکھا جاتا ہے
جہاں شمار ہمارا تھا جاں نثاروں میں
وہ اب سمجھتے نہیں ہیں زباں کشائی بھی
جو پہلے بات سمجھ لیتے تھے اشاروں میں
معاشرے میں جو حق مارتے ہیں لوگوں کا
شمار ان کا بھی ہوتا ہے دین داروں میں
خزاں کی رت کو ہمارا نصیب کر ڈالا
ہمیں کو ڈھونڈنے نکلے ہیں اب بہاروں میں
وہ لوگ کیسے سہیں گے عذاب صحرا کا
جنہوں نے عمر گزاری ہو آبشاروں میں
یہاں پہ کوئی نہیں اب وفا پرست عادلؔ
شمار کس کو کریں اپنے راز داروں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.