دودھ مکھن پھلی ملائی کی
دودھ مکھن پھلی ملائی کی
بات کی شعر میں کلائی کی
قیدی اچھے تمہیں نہیں لگتے
بات کرتے ہو تم رہائی کی
بیٹے برباد ہو گئے گھر میں
کیسی پردیس میں کمائی کی
وہ کسی طور رہ نہیں سکتا
اس کو عادت ہے خودنمائی کی
واقعی نوکری نہیں ملنی
مفت میں ہم نے پھر پڑھائی کی
گنگ ہو جاتی ہیں زبانیں سب
نوبت آئے اگر گواہی کی
شعر کے روپ میں بخاری جی
خلق کی بات کر خدائی کی
حال دنیا کو دیتے پھرتے ہو
بات عاصمؔ ہے جگ ہنسائی کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.