ادھڑ جائے جو اک بخیہ تو ہیئت ہی بدل جائے
ادھڑ جائے جو اک بخیہ تو ہیئت ہی بدل جائے
لباس رشتہ ہائے خوں کی وقعت ہی بدل جائے
مصور ہے وہ ایسا جس کی ہر تخلیق ہے شہکار
ذرا سا عضو یاں سے واں ہو مورت ہی بدل جائے
اٹھائے رخ سے آنچل تو سیاہی شب کی چھٹ جائے
ہٹائے زلف تو مہ کی بھی قسمت ہی بدل جائے
کھلیں گر قصہ ہائے خلوت مرشد مریدوں پر
نگاہوں سے وہ گر جائیں عقیدت ہی بدل جائے
عجب ہے کیفیت اپنی مدثرؔ مضطرب ہے دل
ملے کوئی تو پھر اندر کی حالت ہی بدل جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.