آپ سے آپ ہی اک روز بدل جاؤ گے
آپ سے آپ ہی اک روز بدل جاؤ گے
آج اگر دن ہو تو کل رات میں ڈھل جاؤ گے
حادثے آپ بنا لیں گے تمہیں اپنا رفیق
اک نہ اک روز گروگے تو سنبھل جاؤ گے
خول جو خود پہ چڑھایا ہے اسی میں ٹھہرو
فکر کے غار میں اترے تو پگھل جاؤ گے
تم بخارات کی مانند ابھرنا سیکھو
یوں سمندر کی اسیری سے نکل جاؤ گے
چھوڑ کر دشت حقیقت کے غزالوں کا سراغ
ہم نہ کہتے تھے سرابوں سے بہل جاؤ گے
چھت کے سائے ہی میں بیٹھے رہو منظر مفتیؔ
اس کڑی دھوپ میں نکلو گے تو جل جاؤ گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.