Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ کیا کہ ہو رہا ہے یقیں اک گمان کا

سلمان ثروت

یہ کیا کہ ہو رہا ہے یقیں اک گمان کا

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    یہ کیا کہ ہو رہا ہے یقیں اک گمان کا

    لگتا ہے وقت آ ہی گیا امتحان کا

    تھوڑا بہت تو خود کو سمجھنے لگا ہوں میں

    سمجھو کہ مل گیا ہے سرا آسمان کا

    یہ اور بات ہے کہ خلاؤں میں گم ہوں میں

    ویسے تو آدمی ہوں اسی خاکدان کا

    بے سمت ہو رہا ہے مری سوچ کا سفر

    رخ موڑ دوں ہواؤں کا یا بادبان کا

    محور بنا رہا ہوں اگر اپنی ذات کو

    یہ تجزیہ ہے طوف نہیں آن بان کا

    اک اور باغ بھی ہے پئے آب و گل ادھر

    مل جائے گا سراغ مجھے باغبان کا

    ماضی کے دفتروں کا حوالہ نہ دو اسے

    سلمانؔ تو سفیر ہے آئندگان کا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے