یہ کیا کہ ہو رہا ہے یقیں اک گمان کا
یہ کیا کہ ہو رہا ہے یقیں اک گمان کا
لگتا ہے وقت آ ہی گیا امتحان کا
تھوڑا بہت تو خود کو سمجھنے لگا ہوں میں
سمجھو کہ مل گیا ہے سرا آسمان کا
یہ اور بات ہے کہ خلاؤں میں گم ہوں میں
ویسے تو آدمی ہوں اسی خاکدان کا
بے سمت ہو رہا ہے مری سوچ کا سفر
رخ موڑ دوں ہواؤں کا یا بادبان کا
محور بنا رہا ہوں اگر اپنی ذات کو
یہ تجزیہ ہے طوف نہیں آن بان کا
اک اور باغ بھی ہے پئے آب و گل ادھر
مل جائے گا سراغ مجھے باغبان کا
ماضی کے دفتروں کا حوالہ نہ دو اسے
سلمانؔ تو سفیر ہے آئندگان کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.