میری ہر بات ہی رد ہے حد ہے
میری ہر بات ہی رد ہے حد ہے
ان کی خاموشی سند ہے حد ہے
کون روتا ہے یہاں دوسروں کو
سب کی خود اپنی لحد ہے حد ہے
صرف ہم ہی نہیں ہیں ان پہ فدا
عشق ان کو بھی اشد ہے حد ہے
شہر کی ساری حسیناؤں میں
سب سے اعلیٰ ترا قد ہے حد ہے
دوست ہو کر بھی دغا بازی کرے
یار یہ کیسی مدد ہے حد ہے
شعر کیوں سب کو سناتا ہے شاہؔ
تو نہ غالبؔ نہ اسدؔ ہے حد ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.