گم ہیں ترے خیال میں ہر آن حد ہے یار
گم ہیں ترے خیال میں ہر آن حد ہے یار
تم بھی تو سب کے مثل ہو انسان حد ہے یار
کل بے قرار جس کے لیے تھے ہر ایک پل
آج اس کو کہہ رہے ہو تم انجان حد ہے یار
جس کو وفا کے واؤ کا بھی کچھ پتا نہیں
اس سے وفا کا ہم کو ہے امکان حد ہے یار
رو دھو کے دن گزار کے سو جاتے ہیں تو پھر
شب میں ہیں خواب کرتے پریشان حد ہے یار
مالک کے مثل تم ہو مرے دل میں اب تلک
اور مجھ کرایہ دار کا ہجران حد ہے یار
شب ہی وفا کا عہد ہوا تھا ہمارے بیچ
اب صبح کو ہی اس پہ ہو حیران حد ہے یار
سعدیؔ نے جب سنائی غزل تو یہ بولے دوست
پھر بھی ہے تیرے چہرے پہ مسکان حد ہے یار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.