ایک مدت سے میں مسکرائی نہیں
ایک مدت سے میں مسکرائی نہیں
میری خوشیوں سے جب دل ربائی نہیں
اس لئے ان کو شک ہے کہ ناراض ہوں
کوئی شکوہ زباں پر میں لائی نہیں
تو جو چاہے تو کر لے جدا اپنی راہ
میں نے کچھ قید تجھ پر لگائی نہیں
شادمانی مسرت کے لکھتی ہوں گیت
گرچہ خوشیوں سے کچھ آشنائی نہیں
پیار مجھ سے بھی الفت ہے اوروں سے بھی
کیا کہوں یہ اگر بے وفائی نہیں
مال راہ خدا میں لٹاتی رہی
پھوٹی کوڑی بھی گھر میں بچائی نہیں
جس میں ظالم کو من مانیوں کی ہو چھوٹ
مجھ کو منظور ایسی خدائی نہیں
میں تھی بال اپنے جوڑے میں باندھے ہوئے
پھر بھی سرکش ہوا باز آئی نہیں
جانے کب سے ہے دنیا مری منتظر
ایسی دنیا جو میں نے بسائی نہیں
تو ہے تمثیلہؔ خوش ظرف خاموش سی
آہ و زاری نہیں لب کشائی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.