Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک مدت سے میں مسکرائی نہیں

تمثیلہ لطیف

ایک مدت سے میں مسکرائی نہیں

تمثیلہ لطیف

MORE BYتمثیلہ لطیف

    ایک مدت سے میں مسکرائی نہیں

    میری خوشیوں سے جب دل ربائی نہیں

    اس لئے ان کو شک ہے کہ ناراض ہوں

    کوئی شکوہ زباں پر میں لائی نہیں

    تو جو چاہے تو کر لے جدا اپنی راہ

    میں نے کچھ قید تجھ پر لگائی نہیں

    شادمانی مسرت کے لکھتی ہوں گیت

    گرچہ خوشیوں سے کچھ آشنائی نہیں

    پیار مجھ سے بھی الفت ہے اوروں سے بھی

    کیا کہوں یہ اگر بے وفائی نہیں

    مال راہ خدا میں لٹاتی رہی

    پھوٹی کوڑی بھی گھر میں بچائی نہیں

    جس میں ظالم کو من مانیوں کی ہو چھوٹ

    مجھ کو منظور ایسی خدائی نہیں

    میں تھی بال اپنے جوڑے میں باندھے ہوئے

    پھر بھی سرکش ہوا باز آئی نہیں

    جانے کب سے ہے دنیا مری منتظر

    ایسی دنیا جو میں نے بسائی نہیں

    تو ہے تمثیلہؔ خوش ظرف خاموش سی

    آہ و زاری نہیں لب کشائی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے