دل سے وہ کام نہیں لیتے ہیں
دل سے وہ کام نہیں لیتے ہیں
اب مرا نام نہیں لیتے ہیں
وہ بھی آغاز بھلا بیٹھے ہیں
ہم بھی انجام نہیں لیتے ہیں
ہم سے نالاں ہیں محبت کیوں کی
خود پر الزام نہیں لیتے ہیں
حضرت دل کا بھلا کیا کیجے
ذرا آرام نہیں لیتے ہیں
ضد ہے گرنا ہے یہاں روز و شب
جب تلک تھام نہیں لیتے ہیں
کوئی سمجھائے بجھائے دل کو
دل پر آلام نہیں لیتے ہیں
میرے شعروں پہ ہے مرتی دنیا
وہی پیغام نہیں لیتے ہیں
لیجئے مفت میں جاں لے لیجے
جاں کے ہم دام نہیں لیتے ہیں
توبہ کتنا ہے برا نام ابرکؔ
جب وہی نام نہیں لیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.